پاکیزہ زندگی گزارنے کے اُصول (حصہ نمبر-1)

Mark Waseem

انسانی عدالت میں کسی کو زنا کا مرتکب صرف اُسی صورت میں قرار دیا جاسکتا ہے جب وہ پکڑا جاتا ہے اور اُس کے خلاف دو یا تین چشم دید گواہ شہادت دیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اس طرح کا گناہ تو کرتا ہے لیکن پکڑا نہیں جاتا یا اُس کے خلاف کوئی گواہی نہیں ہوتی تو دنیا کی کوئی عدالت بھی اُسے قصوروار نہیں ٹھہرا سکتی۔ لیکن خدا کی عدالت میں ایسا نہیں ہے۔ خدا کے نزدیک وہ شخص بھی اُتنا ہی قصوروار ہے جو زنا کی صرف نیت ہی کرتا ہے۔

مزید سمجھنے کے لئے درج ذیل انجیلِ مقدس کے حوالے کا مطالعہ کریں۔

تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کرچکا۔
(متّی 5 باب 27 تا 28 آیات)

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دیں۔