مسئلے کا حل

Mark Waseem

فرض کریں کہ جج کا اپنا بیٹا کسی جرم میں پکڑا جاتا ہے۔ اب عدل کا تقاضا ہے کہ جج صاحب کو اپنے بیٹے کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ کرے۔ جب کہ دوسری جانب سے اُن کی پدرانہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا بیٹا اتنی بڑی سزا سے بچ جائے۔ اب جج صاحب کس طرح ایک دیانتدار جج اور ایک شفیق باپ کا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ جج کی حیثیت سے دیانتداری سے اپنے مجرم بیٹے کو پورا پورا جرمانہ کریں اور بعد میں ایک باپ کی حثیت سے یہ جرمانہ اپنی جیب سے خود ادا کریں۔ اس طرح اُن کا عدل اور پدرانہ محبت دونوں قائم رہ سکتی ہیں۔
بالکل اسی طرح صلیب پر خدا تعالیٰ کا عدل اور محبت اکھٹے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے عدل کا تقاضا یہ تھا کہ گناہ گار انسان کو سزا دی جائے۔ لکین اُس کی محبت متقاضی تھی کہ انسان بچ جائے۔
انسان اسی صورت میں بچ سکتا تھا کہ کوئی اور اُس کی جگہ یہ سزا برداشت کرکے اس کے عدل اور محبت کے تقاضا پورا کرتا۔ چونکہ یہ کام کوئی دوسرا نہیں کرسکتا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنا بیٹا ہی بخش دیا تاکہ وہ انسان کی سزا برداشت کرکے اس کے عدل اور محبت کے تقاضے پورے کردے۔
پولُس رسول اس بارے میں یوں فرماتے ہیں کہ” لیکِن خُدا اپنی محبّت کی خُوبی ہم پر یُوں ظاہِر کرتا ہے کہ جب ہم گُنہگار ہی تھے تو مسِیح ہماری خاطِر مُوا۔(رومیوں 5 باب 8 آیت)

سوچنے کی بات
انسان کو گناہ کی سزا سے بچانے کے لئے خداوند کریم نے اپنی پُر حکمت مصلحت کے تحت مقرر کیا کہ اُس کا بیٹا یسوع مسیح تمام جہاں کے گناہوں کے لئے صلیب پر اپنی جان کا کفارہ دے تاکہ خدا تعالیٰ کے عدل اور محبت کا تقاضا پورا ہو اور انسان کی نجات بھی ممکن ہو سکے۔ کیا کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہے کہ خدا تعالیٰ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا؟
دعا۔ اے خداوند رحیم۔ آپکا شکر ہو کہ آپ نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کی کفارہ بخش موت کے وسیلے سے تمام انسانوں کی نجات کو ممکن کیا۔ میرے خدا آپ مجھے توفیق عطا فرمائیں کہ میں آپ کے اس انتظام کی قدر کرسکوں۔ آمین
مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دیں۔