اِنسان باغِ عدن میں

Mr. PBCS

توریت شریف میں بیان ہے کہ خُدا نے پہلے انسان یعنی حضرت آدم اورحوا کو خلق کر کے باغِ عدن میں رکھا۔ اور اُنہیں ذمہ داری بخشی کہ وہ باغِ عدن کی باغبانی اور نگہبانی کریں۔ اور اُس کے ساتھ ہی اُنہیں ایک مختصر سی شریعت بھی عطا فرمائی۔ توریت شریف میں یوں مرقوم ہے،

”اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھاسکتاہے۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا (پھل) کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا“ (پیدائش2: 16-17)

اَب ہوا یوں کہ ابلیس جو کہ خُدا اور انسان دونوں کا دشمن ہے سانپ کی صورت میں حوا کے پاس آیا اور فریب اور دھوکہ سے حضرت حوا کو اُبھارنے لگا کہ وہ ممنوعہ پھل کھا کر شریعتِ الٰہی کی نافرمانی کر ے۔ اِس حوالہ سے توریت شریف میں یوں مرقوم ہے،

”اور سانپ کُل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھاچالاک تھا اور اُس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہاہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟“

”عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاﺅ گے“۔

”تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاﺅ گے تمہاری آنکھیں کھُل جائیں گی اور تم خد ا کی مانند نیک و بد کی پہچان کے جاننے والے بن جاﺅ گے۔“

” عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت (کا پھل) کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتاہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھایا“۔ (پیدایش3: 1-6)۔